سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تانتی۔تتوا کی درج فہرست ذات کی حیثیت ختم ہونے پر تعلیمی اداروں سے نکالے گئے طلبہ کے معاملات کا جائزہ لے گی حکومت: وجے چودھری
Awaz E Bihar••0 ویوز•5 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 09 فروری (اے بی این) بہار حکومت نے پیر کو اسمبلی میں یقین دہانی کرائی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں تانتی۔تتوا ذات کو درج فہرست ذات (ایس سی) کے زمرے سے خارج کیے جانے کے بعد جن طلبہ کو تعلیمی اداروں سے نکالا گیا ہے، ان کے معاملات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔ بہار کے پارلیمانی امور کے وزیر وجے کمار چودھری نے انڈین انکلوسیو پارٹی (آئی پی پی) کے رکن اسمبلی اندرجیت پرساد گپتا کی توجہ دلاؤ تجویز کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت تانتی۔تتوا ذات سے تعلق رکھنے والے ان طلبہ کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہے، جنہیں سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی درج فہرست ذات کی حیثیت واپس لیے جانے کے بعد میڈیکل کالجوں، انجینئرنگ کالجوں، نوودیہ ودیالیوں سمیت دیگر تعلیمی اداروں سے باہر کر دیا گیا ہے۔ مسٹر چودھری نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ ایسے امیدواروں کے معاملات کا بھی جائزہ لیا جائے گا، جو بھرتی امتحانات میں کامیاب ہونے کے باوجود ایس سی زمرے کے تحت خدمات میں شامل نہیں کیے جا رہے ہیں۔ مسٹر چودھری نے مسٹر گپتا سے کہا کہ وہ تعلیمی اداروں سے نکالے گئے طلبہ اور منتخب ہونے کے باوجود خدمات میں شامل نہ کیے گئے امیدواروں کی تفصیلی معلومات فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہے اور اگر مکمل تفصیلات دستیاب ہوں تو حکومت کو ان معاملات کی جانچ میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ وزیر نے کہا کہ ریاستی حکومت نے تانتی۔تتوا ذات کی سماجی حالت کا مطالعہ کرانے کے بعد انہیں ایس سی زمرے میں شامل کیا تھا۔ تحقیقی نتائج میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ تانتی۔تتوا کی سماجی حالت پان ذات کے مماثل ہے، جو پہلے ہی درج فہرست ذات کے تحت سہولیات حاصل کر رہی ہے۔ مسٹر چودھری نے بتایا کہ پٹنہ ہائی کورٹ نے پان ذات کی ذیلی ذات کے طور پر تانتی۔تتوا کو ایس سی زمرے میں شامل کرنے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا، تاہم بعد میں سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کے فیصلے اور پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے، دونوں کو منسوخ کر دیا۔ وزیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تانتی۔تتوا کو درج فہرست ذات (ایس سی) دیے جانے کے فیصلے کو منسوخ کیے جانے کے باوجود ریاستی حکومت ان کے مفادات کے تحفظ کی خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ذات سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کو ریاستی سرکاری خدمات سے باہر نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ ان کی درجہ بندی ایس سی سے تبدیل کر کے انتہائی پسماندہ طبقہ (ای بی سی) کر دی گئی ہے، اس کے باوجود انہیں خدمات میں برقرار رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے بعد رکن اسمبلی مسٹر گپتا نے وزیر مسٹر چودھری کو بتایا کہ حکومتی فیصلے کے بعد جن طلبہ نے فوائد حاصل کیے تھے، انہیں تعلیمی اداروں سے نکالا جا رہا ہے اور جو افراد سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں کامیاب ہو چکے ہیں، ان سے انٹرویو کے وقت ایس سی ہونے کا سرٹیفکیٹ طلب کیا جا رہا ہے۔ اس پر وزیر نے ان سے تفصیلی معلومات فراہم کرنے کو کہا اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت ایسے تمام معاملات کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے دہرایا کہ تانتی۔تتوا ذات کے معاملے پر حکومت سنجیدہ ہے، اسی لیے سماجی مطالعے کی بنیاد پر انہیں ایس سی زمرے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ مسٹرچودھری نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی عرضی دائر کی ہے، جس میں تانتی۔تتوا کو ایس سی زمرے سے باہر کیے جانے کے فیصلے پر دوبارہ غور کی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ذات کو درج فہرست ذات کا درجہ دینے کا اختیار صرف مرکزی حکومت کو حاصل ہے۔ بھاگلپور سول کورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی، سیکورٹی انتظامات سخت بھاگلپور، 9 فروری (اے بی این) بہارمیں بھاگلپورسول کورٹ کو پیر کوبم سے اڑانے کی دھمکی موصول ہونے کے بعد عدالت احاطے کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ بھاگلپور کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ پرمود کمار یادو نے آج یہاں بتایا کہ بھاگلپور سول کورٹ کے انتظامی انچارج کو ای میل کے ذریعے بم سے اڑانے کی دھمکی کی اطلاع ملتے ہی حفاظتی نقطہ نظر سے عدالت احاطے میں عام لوگوں کے داخلے پر پابندی عائد کرتے ہوئے بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سٹی پولیس سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے اضافی پولیس فورس اور بم ناکارہ بنانے والے دستے کے ساتھ موقع پر پہنچ کر عدالت احاطے میں تلاشی مہم چلائی۔ اس دوران کسی بھی مشتبہ شے کے ملنے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ صورتحال بالکل پرامن ہے اور پولیس دھمکی آمیز ای میل کی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران دو مرتبہ بھاگلپور سول کورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی مل چکی ہے۔ ضلع و سیشن جج کے انتظامی انچارج کو عدالت کو بم سے اڑانے کی دھمکی پر مبنی ای میل موصول ہوئی ہے، جس کے بعد انچارج کی جانب سے فوری طور پر اس کی اطلاع پولیس کے سینئر افسران کو دی گئی۔