ارریہ(اے بی این) مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کے روز کہا کہ دراندازوں سے ہندوستان کو آزاد کرانے کی مہم کا آغاز بہار کے سیمانچل خطے سے کیا جائے گا۔ سیمانچل کے علاقے میں دراندازی کے مسئلے پر کئی اہم اجلاسوں کے بعد ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ بہار کے سیمانچل میں واقع ہندوستان-نیپال سرحدی علاقوں میں مبینہ غیر قانونی دراندازوں کی شناخت کر کے انہیں ملک سے باہر بھیجنے کے لیے خصوصی مہم چلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت بہار کو دراندازوں سے پاک کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کرے گی۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے واضح کیا کہ یہ مہم صرف ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ’’ہندوستانی سرزمین سے ہر دراندازوں کو ہٹانے ‘‘کا عمل بھی مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دراندازوں کو ملک سے نکالنا محض انتخابی وعدہ نہیں بلکہ مرکزی حکومت کا پختہ عزم ہے اور یہ مہم جلد ہی سیمانچل سے شروع ہوگی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ درانداز نہ صرف انتخابات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ محروم طبقات کے لیے لائی گئی فلاحی اسکیموں کی تقسیم اور نوجوانوں کے روزگار پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق غیر ملکی شہریوں کا غیر قانونی طور پر ملک میں رہنا قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ان کے تین روزہ دورے کے دوران متعلقہ مرکزی وزارتوں کے افسران، بہار کے محکمہ داخلہ، ضلع مجسٹریٹس، پولیس سپرنٹنڈنٹس اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تفصیلی میٹنگز کے ذریعے جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے ۔ مجوزہ حکمت عملی کے تحت سیمانچل خطے میں سرحد سے 10کلومیٹر کے دائرے میں تجاوزات کو ترجیحی بنیادوں پر ہٹایا جائے گا۔ قابلِ ذکر ہے کہ امت شاہ بنگلہ دیش-نیپال سرحد سے متصل اضلاع کشن گنج، پورنیہ اور کٹیہار کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ اس دوران انہوں نے آبادی میں مبینہ تبدیلی سے متعلق امور پر انتظامیہ اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ جائزہ میٹنگز کیں۔ ان اجلاسوں میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے اور بہار کے نائب وزیر اعلیٰ و وزیر داخلہ سمراٹ چودھری بھی موجود تھے ۔ دورے کے دوران امت شاہ سرحدی چوکیوں کے افتتاح، 'وائبرینٹ ولیجز پروگرام-2'اور ایس ایس بی کے مختلف پروجیکٹس کے ای-افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقاریب میں بھی شرکت کریں گے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور آسام آبادی کے عدم توازن کا سب سے زیادہ خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت آبادی کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور اس سمت میں ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے، امت شاہ نے آزادی پسند اور ہندوتوا کے نظریہ ساز ونائک دامودر ساورکر کو ان کی برسی پر خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1857 کی بغاوت کو ہندوستان کی پہلی آزادی کی جدوجہد کے طور پر وسیع پیمانے پر پہچان ملی جب ساورکر نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھ کر اسے قائم کیا۔