بہار قانون ساز کونسل کے چیئرمین نے ایوان کی کارروائی سے متعلق خبروں کی زبان پر تشویش ظاہر کی
Awaz E Bihar••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
بہار قانون ساز کونسل کے چیئرمین اودھیش نارائن سنگھ نے ایوان کی کارروائی سے متعلق اخبارات میں شائع ہو رہی خبروں کی زبان پر بدھ کوتشویش ظاہر کی۔ کونسل کی وقفہ طعام سے قبل کی نشست شروع ہوتے ہی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سینئر رکن عبدالباری صدیقی نے کہا کہ ایوان بالاکی کارروائی کا صحیح پیغام عوام تک نہیں پہنچ رہا ہے۔ اس پر چیئرمین اودھیش نارائن سنگھ نے بھی اخبارات میں شائع خبروں کی زبان پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کی کارروائی کو سڑک جیسی زبان میں پیش کیا جانا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر وہ اپنے کمرے میں سینئر اراکین کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔ اس کے بعد سوال و جواب کا وقفہ معمول کے مطابق چلایا گیا، جس میں وزیر اعلیٰ ہمہ گیر شہری ترقی اسکیم کے تحت ڈپلیکیٹ منصوبوں کی منظوری کا معاملہ بھی گرم رہا۔ آر جے ڈی کے عبدالباری صدیقی نے الزام لگایا کہ 4,787 منصوبوں میں سے 105 ایسی اسکیمیں منظور کی گئی ہیں جو پہلے ہی مکمل ہو چکی تھیں۔ نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار سنہا نے کہا کہ 3,259 منصوبے منظور ہوئے ہیں، جن میں 101 فرضی منصوبوں کی نشاندہی کر کے انہیں منسوخ کر دیا گیا ہے اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران حکومت نے تسلیم کیا کہ بہار میں خشک نشہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے رویندر سنگھ کے سوال پر انچارج وزیر اشوک چودھری نے اس بات کو قبول کیا۔ جے ڈی یو کے وریندر نارائن یادو نے سرحدی اتر پردیش کے اضلاع میں شراب کی دکانوں کی بڑھتی تعداد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے پڑوسی ریاستوں کے ساتھ تال میل قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر مسٹر چودھری نے کہا کہ نشہ کی روک تھام کے لیے بیداری مہم اور چھاپہ ماری تیز کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں 15 ہزار کلوگرام سے زائد گانجہ، 240 کلو افیون اور 40 ہزار لیٹر کف سیرپ ضبط کیا گیا ہے اور 16 لاکھ سے زیادہ گرفتاریاں کی گئی ہیں۔ ایوان میں بیلٹران سے وابستہ امیدواروں کے روزگار کا سوال بھی اٹھا۔ قانون ساز کونسل کے رکن اشوک کمار نے کہا کہ ہندی ٹائپنگ امتحان میں 10 ہزار امیدوار کامیاب ہوئے، لیکن پانچ ہزار کو ہی تقرری ملی۔ اس پر انچارج وزیر شرییسی سنگھ نے واضح کیا کہ تقرریاں میرٹ کی بنیاد پر ہوئی ہیں اور بقیہ امیدواروں کے لیے فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اصلاحات اراضی اور جن کلیان سنواد کے ذریعے اراضی تنازعات کے تصفیہ کی صورتحال پر بھی بحث ہوئی۔ وزیر وجے کمار سنہا نے بتایا کہ تقریباً 40 لاکھ اراضی ریکارڈز میں خامیاں پائی گئی ہیں، جن میں سے چھ لاکھ معاملات میں اصلاح کی جا چکی ہے۔ جن کلیان سنواد کے تحت 8,363 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن پر کارروائی جاری ہے۔ اس دوران آر جے ڈی کے سنیل کمار سنگھ نے الزام لگایا کہ کئی بلاکس میں رشوت کے بغیر زمین سے متعلق کام نہیں ہوتے۔ اس پر وزیر نے جانچ کر کارروائی کا یقین دلایا۔