نتیش کمار کا بہار کو الوداع یا بی جے پی کی الوداعی تصویر
Awaz E Bihar••0 ویوز•5 منٹ پڑھیں
وزیر اعلیٰ نتیش کمار ایک مجھے ہوئے سیاست داں ہیں انہیں آسانی سے سمجھنا یا ان کی سیاست کو بھانپنا مشکل امر ہے آج کی تصویر بھلےہی بی جے پی کو خوشیاں منانے کا موقع دے رہی ہو لیکن اس کے پیچھے نتیش کمار کی ایک شاطر چال ہے نتیش کمار کے شاطرانہ چألوں سے اچھے اچھے سیاست داں کی پکڑی کھل جاتی ہے اور اسے گنگا میں غوطہ زن ہونا ہی پڑتا ہے اس پس منظر میں نتیش کمار یا تو مرکزی حکومت کو ہلا کر رکھ دیں گے یا پھر بہار کی کرسی بچانے میں کامیاب ہوں گے ابھی تو پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے راجیہ سبھا میں 9اپریل تک جانا ہے نتیش کمار 9اپریل تک وزیر اعلیٰ بنے رہیں گے اس بیچ کیا کھیل ہوگا یہ کہنا مشکل ہے ویسے لالو نے کبھی کہاتھا کہ نتیش کمار کے پیٹ میں دانت ہے ‘ نتیش کی سیاست کو قریب سے جاننے والے مانتے ہیں کہ وہ آسانی سے کرسی نہیں چھوڑیں گے آئندہ کیا ہوگا اس کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیش کمار ودھان پریشد کے ممبر ہیں جب تک وہ اس سے استعفیٰ نہیں دیتے اس وقت تک بہار میں کچھ بھی ہوسکتاہے ۔ سیاسی پنڈتوں کی مانیں تو نتیش کمار راجیہ سبھا جائیں گے تو مودی سرکار کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی وہ چندرا بابو سے مل کر اس مودی سرکار کا خاتمہ کر سکتے ہیں لیکن یہ باتیں ابھی بہت دور کی کوڑی ہے ۔ سب سے اہم یہ ہے کہ نتیش کمار جب تک ودھان پریشد کے ممبر ہیں اس وقت تک وہ کچھ بھی کھیل کرسکتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کوئی سگانہیں ہوتا اور نہ کوئی دشمن کب کیا ہوجائے یہ کہنا مشکل ہے ۔ ویسے جنتادل یو کے لیڈروں میں بے چینی پھیل گئی ہے اور لوگ احتجاج کررہے ہیں حالانکہ فیصلہ تو بڑے لیڈر ہی لیتے ہیں فیصلہ ہو بھی گیا نتیش کمار راجیہ سبھا کیلئے پرچہ نامزدگی داخل کردیا ہے۔ آخری بات یہ ہے کہ نتیش کمار اس وقت دباؤ میں ہے اور ان کے ارد گرد والے لیڈر بی جے پی کے زعفرانی چہرے کے ساتھ کھڑے ہوچکے ہیں تو ظاہر نتیش کمار کو اپنی سیاست کو بچانا بھی ضروری ہے اس لئے یہ قدم اٹھا رہے ہیں لیکن اندورونی ستروں کی مانیں تو بہار میں ابھی بہت کھیل باقی ہے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نتیش کمار 16 مارچ کو قانون ساز کونسل سے استعفیٰ دے دیں گے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا نریندر مودی حکومت کو اپنے ممبران اسمبلی کی مدد سے چلائے رکھنے والے نتیش کمار خود راجیہ سبھا ممبر بن کر بہار چھوڑ دیں گے؟ کیا وہ پی ایم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بعد مرکزی سیاست میں جگہ پائیں گے؟ پھر اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بہار کا آگے کیا ہوگا؟ دوسری طرف، اس سے آر جے ڈی کے ایک پرانے الزام کی بھی تصدیق ہو جائے گی کہ بی جے پی نتیش کو ختم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ بہار کی سیاست سے نتیش کمار کا اخراج جے ڈی یو کے لیے خودکشی ہو گا، یہ نظریہ پارٹی کے اندر نتیش کمار کے تمام قریبی لوگوں کا ہے۔ نوکر شاہی بھی نہیں چاہتی کہ نتیش چلے جائیں، کیونکہ کوئی بھی نیا وزیر اعلیٰ ان کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔ بی جے پی طویل عرصے سے وزیراعلیٰ کے امیدوار کی تلاش میں ہے، جس کی ویٹنگ لسٹ میں کئی نام ہیں۔ 2020 کے انتخابات کے دوران نتیا نند رائے کا نام سب سے آگے تھا، جب کہ 2022-23 میں مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے سمراٹ چودھری کو ممکنہ وزیر اعلیٰ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ نتیانند فی الحال خاموش ہیں، جبکہ سمراٹ خاموشی سے مشاہدہ کر رہے ہیں، اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ وہ ہولی کے اس اچانک شور سے خوش ہیں۔ تاہم، ہمیشہ یہ خوف رہتا ہے کہ اگر نتیش کمار چلے گئے تو بی جے پی حیران کن امیدوار کھڑا کر سکتی ہے۔ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ امیش کشواہا ریاست بہار جے ڈی یو کے انچارج رہیں گے۔ تاہم نہ صرف سیاسی پارٹیاں بلکہ عام لوگ بھی جانتے ہیں کہ جے ڈی یو کا مطلب نتیش کمار ہے، کوئی اور نہیں۔ مزید یہ کہ اگر نتیش کمار راجیہ سبھا کے ذریعے مرکزی حکومت میں واپس آتے ہیں تو وہ بہار کی سیاست سے غائب ہو جائیں گے۔ مرکز میں نائب وزیر اعظم کے طور پر بھی وہ بہار کے لیے کچھ نہیں کر پائیں گے، اور یقیناً پارٹی کے لیے نہیں۔ نشانت کمار براہ راست جے ڈی یو کے قومی صدر نہیں بنیں گے، نہ ہی وہ ایک بننا چاہیں گے، اور نہ ہی ان کے آنے پر نتیش کمار کا قد حاصل کریں گے۔ ایسے میں اگر دیگر پارٹیوں کا جے ڈی یو کو تباہ کرنے کا مشن بھی کامیاب ہو جاتا ہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہو گی۔ کیونکہ آر سی پی سنگھ کی جے ڈی یو میں واپسی کا راستہ روک دیا گیا ہے۔ راجیو رنجن سنگھ، جسے للن سنگھ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، پہلے ہی مرکزی سیاست میں ہیں اور نریندر مودی حکومت میں وزیر ہیں۔ سنجے جھا پارٹی کے کارگذار صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔ دونوں کا تعلق اعلیٰ ذات سے ہے۔ ایسے میں لو کش مساوات پر مبنی پارٹی کی بنیاد نتیش کمار کا جانا پارٹی کے لیے شاید ہی اچھا ہو گا۔نتیش کمار اس سے قبل لوک سبھا کے رکن اور وزیر رہ چکے ہیں۔ مدیر کے قلم سے جے بہار