منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ریاست میں قانون کی حکمرانی قائم ہے ہم مستقل طور پر ترقیاتی کام کررہے ہیں: نتیش
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

ریاست میں قانون کی حکمرانی قائم ہے ہم مستقل طور پر ترقیاتی کام کررہے ہیں: نتیش

Awaz E Bihar•11 مارچ، 2026 کو 07:39 PM•35 ویوز•9 منٹ پڑھیں

کشن گنج (اے بی این) وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کشن گنج ضلع کے ٹھاکر گنج بلاک واقع گرڈ سب پاور اسٹیشن چر لی کے نزدیک ایگریکلچر میدان میں منعقد جن سمواد پروگرام میں شامل ہوے۔ جن سمواد پروگرام کو خطاب کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آپ سب یہاں اس پروگرام میں کثیر تعداد میں موجود ہیں ۔ میں تمام لوگوں کا خیر مقدم کر تا ہوں ۔ آپ تمام لوگ جانتے ہیں کہ 24 نومبر 2005 کو پہلی مرتبہ بہار میں این ڈی اے کی حکومت بنی تھی، اس وقت سے ریاست میں قانون کی حکمرانی قائم ہے اور ہم مستقل طور پر ترقیاتی کام کررہے ہیں۔ 2005سے قبل بہار کی کیا حالت تھی ؟ بہت برا حال تھا ۔ لوگ شام کے بعد گھر وںسے باہر نہیں نکلتے تھے۔ سماج میں کتنا تنازعہ ہوتا تھا؟تعلیم کی کاحالت تھی؟۔ بہت کم بچے پڑھتے تھے۔پڑھائی بہت کم ہو تی تھی۔پہلے علاج کا بھی مکمل انتظام نہیں تھا۔ سڑکیں بہت کم تھیں اور جو تھیں وہ خستہ حال تھیں۔ بجلی کی فراہمی بہت کم جگہوں پر تھی۔ اب کسی بھی طرح کے خوف اور دہشت کا کوئی ماحول نہیں ہے۔ریاست میں محبت ،بھائی چارہ اور امن کا ماحول ہے۔ سب سے پہلے تعلیم کے شعبہ میں خصوصی توجہ دی گئی ۔ ہم لوکوں نے کنٹریکٹ ٹیچروں کی بحالی کی، بڑی تعدااد میں نئے اسکول کھولے اورسرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا و طالبات کے لیے سائیکل اور پوشاک منصوبہ چلا یا گیا۔ سال 2023 سے، بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ 2لاکھ 58ہزار سرکاری اساتذہ کی بحالی کی گئی۔ 2006 سے 3لاکھ 68ہزار کنٹریکٹ اساتذہ بحال کیے گئے تھے، جن میں سے بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 28ہزار 976 سرکاری اساتذہ بن چکے ہیں۔ اس کے بعد، حکومت نے فیصلہ کیا کہ کنٹریکٹ اساتذہ کو بی پی ایس سی کا امتحان دینے کی ضرورت نہیں ہے ،انہیں معمولی سا امتحان لے کر سرکاری اساتذہ بنایا جائے گا۔ اس کے لیے انہیں پانچ مواقع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب تک چار امتحانات ہو چکے ہیں، اور 2لاکھ 66ہزار کانٹریکٹ ٹیچر پاس ہو چکے ہیں۔ اب صرف 73ہزار باقی بچ گئے ہیں جنہیں ایک اور موقع دیا جائے گا۔ سرکاری اساتذہ کی کل تعداد اب 5 لاکھ 24ہزار ہوگئی ۔ اس کے علاوہ بی پی ایس سی کے ذریعہ اور 45ہزار نئے عہدوں پر بحالی شروع کی جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی کاموں میں جوکمی رہی گئی ہے اس کوپوار کر نے کے لیے دسمبر 2024 اور جنوری-فروری 2025 میں پرگتی یاترا کے دوران ہم نے تمام اضلاع میں جاکر ترقیاتی کاموں کودیکھا اور جو کمی رہ گئی تھی اسے پورے کر نے کے لیے 430نئے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ تمام اضلاع میں ان منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے۔ اب تک 21 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، باقی تمام کاموں کو جلد پورا کرلیا جائے گا۔ بہارکی ترقی میں مرکزی حکومت کی طرف سے مکمل تعاون مل رہا ہے۔ جولائی 2024 کے بجٹ میں بہار کو خصوصی مالی مدد کی شکل میں لیے سڑکوں، صنعت، صحت، سیاحت اور سیلاب پر قابو پانے کے لیے بڑی رقم دینے کا اعلان کیا گیا۔ فروری 2025 کے بجٹ میں بہار میں مکھانہ بورڈ کے قیام، ایئر پورٹ کا قیام اور مغربی کوسی کینال کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا گیا تھا۔ 2018ٍََمیں ملک کی کچھ ریاستوں میںکھیلو انڈیایوتھ گیمزکا انعقاد ہوا تھا ،سال 2025میں کھیلو انڈیا یوتھ گیمز کا انعقاد بہار میں کیا گیا جو فخر کی بات ہے۔ان سب کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو سلام کرتے ہیں۔ وزیر اعظم کئی مرتبہ بہار آئے اور ان کے ذریعہ ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد ر،افتتاح کیا گیا ۔ ان تمام منصوبوں پراب تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ ’سات نشچے 3'‘ اگلے پانچ برسوں کے لیے قائم کیا گیا ہے،جس سے دوگنا روزگار، دوگنی آمدنی کے تحت ریاست کی فی کس اوسط آمدنی کو دوگنا کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ خواتین روزگار منصوبہ کے تحت ہر خاتون کو 10ہزار روپے دیے گئے ہیں۔ جن کا روزگار بہتر چلے گے ا نہیں 2 لاکھ روپے تک کی مدد دی جائے گی۔ آئندہ پانچ برسوں میں 1نوجوانوں کو نوکریاں اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اسکے لیے یوتھ ایمپلائمنٹ اینڈ اسکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے۔ خوشحال صنعت، مضبوط بہارکے تحت آئندہ 5برسوں میں میں صنعتوں کے قیام پرپوری توجہ دی جائے گی ۔ تمام اضلاع میں انڈسٹریل ایریا قائم کیا جارہا ہے۔ نئی بڑی صنعتوں کے لیے مفت زمین اور گرانٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ پرانی، بند شوگر ملیں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔ زراعت میں پیش رفت: زرعی ترقی، ریاست کی خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے پہلے ہی کافی کام کیا جا چکا ہے۔ اس کام کو مزید تیز کرنے کے لیے ایک نیا بہار مارکیٹنگ پروموشن کارپوریشن قائم کیا گیا ہے۔ مکھانہ کی پیداوار کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے۔ ڈیری اور فش فارمنگ پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ ریاست میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ’اعلیٰ تعلیم روشن مستقبل‘پروگرام کے تحت ہر بلاک میںآدرش اسکول اور ڈگری کالج کھولے جا رہے ہیں۔ ایک نئی ایجوکیشن سٹی تعمیر کیا جائے گی۔ آسان صحت محفوظ زندگی پروگرام کے تحت طبی خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضلع اور بلاک اسپتالوں کو خصوصی طبی مراکز میں اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ ریاست میں معروف پرائیویٹ اسپتالوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ سرکاری ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس کو روکنے کے لیے پالیسی لائی جائے گی۔ مضبوط بنیاد جدید توسیع: کے تحت انفراسٹرکچر کو بہتر کیا جائے گا،۔ پانچ نئے ایکسپریس وے کی تعمیر اور دیہی سڑکوں کو دو لین تک چوڑا کیا جائے گا۔ تمام خواہشمند لوگوں کے گھروں کی چھتوں پر سولر پینل لگائے جائیں گے۔ بہار میں سیاحت اور ایکو ٹورازم کے فروغ پر خصوصی زور دیا جائے گا۔ پٹنہ میں اسپورٹس سٹی بنائی جائے گی اور کھلاڑیوں کو سرکاری نوکریاں دی جائیں گی۔ سب کا سمان-زندگی آسان کے تحت جدید تکنیک اور گڈ گورننس کے ذریعے ریاست کے تمام لوگوں کی زندگی کو آسان بنایا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے شن گنج ضلع میں کئے گئے ترقیاتی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2005 سے پہلے کشن گنج ضلع کی حالت بہت خراب تھی۔ پٹنہ سے کشن گنج جانے میں کافی وقت لگتا تھا کیونکہ سڑکیں خستہ حال تھی۔ پٹنہ سے کشن گنج پہنچنا ایک مشکل کام تھا۔ بجلی کی صورتحال تشویشناک تھی۔ جب سے ہمیں موقع ملا ہے ہم پورے بہار میں ترقیاتی کام کر رہے ہیں۔ پٹنہ سے کشن گنج پہنچنے کے لیے اچھی سڑک بنائی گئی۔ کشن گنج-پورنیہ سڑک کو چوڑا کیا گیا۔ کشن گنج ضلع میں انجینئرنگ کالج، پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ، ایک خواتین آئی ٹی آئی ،تمام سب ڈویزن میں آئی ٹی آئی ، جی این ایم اورپارا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ قائم کیے گئے۔ کرپوری ہاسٹل اور تین رہائشی اسکول یہاں تعمیر کیے گئے۔ سیلاب پر قابو پانے اور کٹاؤکو روکنے کے لیے کام کیے گئے ہ یں۔ ایگریکلچر کالج قائم ہوا۔ پرگتی یاترا کے دوران، ہم نے ترقیاتی کاموں کا مشاہدہ کرنے کے لیے ضلع کا دورہ کیا اور مقامی باشندوں سے بات کے ذریعے کمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ ان کمیوں کو دور کرنے کے لیے سات منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے اور فی الحال ان پر کام چل رہا ہے۔ یہ کام جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ ان منصوبوں میں ٹھاکر گنج بائی پاس روڈ کی تعمیر، دو پاور سب اس سٹیشن، کشن گنج-بہادر گنج فورلین کی تعمیر کا کام، دو نئی بلاک-کم زونل آفس کی عمارتوں کی تعمیر کا کام ،کن کئی ندی پر ایک اعلیٰ سطحی آر سی سی پل، اور کشن گنج-ٹھاکر گنج سڑک پر مہانندا ندی پر ایک پل شامل ہیں۔ ان تمام منصوبوں پر تیزی سے کام چل رہا ہے اور جلد مکمل ہو جائے گا۔ سات نشچے-3 کے تحت، کشن گنج ضلع میں آئندہ پانچ برسوں (2025 سے30) میں متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ خواتین کی روزگار اسکیم کے تحت، کشن گنج ضلع میں 3لاکھ 58ہزار خواتین کو10 ہزارروپے فراہم کیے گئے ہیں، اوربہتر روزگار کر نے والوں کو 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ صنعتی زون کے قیام سے اس ضلع میں نئی صنعتی علاقہ قائم کر کے نئی صنعتیں لگائی جائیں گی، زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے روزگار کو یقینی بنایا جائے گا۔ کشن گنج ضلع کے 64 گاؤں میں دودھ کی پیداوار کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔ سودھا دودھ کی فروخت کے مراکز 125 پنچایتوں میں کھولے جائیں گے۔ تمام ساتوں بلاک میں ماڈل اسکول اور ڈگری کالج قائم کیے جائیں گے۔ تمام سات کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز کو خصوصی اسپتال اور کشن گنج صدر اسپتال کو سوپر اسپشلٹی اسپتال کے طور پر فروغ دیا جائے گا۔ کشن گنج میں کھیلوں کے لیے ایک سنٹر آف ایکسیلنس قائم کیا جائے گا۔ سب کا سماں، زندگی آسانکے تحت سرکاری سہولیات تک رسائی کے انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا۔ ان پروجیکٹوں کی تکمیل سے کشن گنج کی نمایاں ترقی ہوگی۔ بہار ترقی کرے گا اور ملک کی ترقی یافتہ ریاستوں کی صف میں شامل ہو جائے گا۔
عوامی مکالمے کے پروگرام کو نائب وزیر اعلیٰ جناب سمراٹ چودھری، آبی وسائل کے وزیر وجے کمار چودھری، اقلیتی فلاح کے وزیر اور کشن گنج ضلع کے انچارج وزیر محمد زماں خان، سڑک تعمیر اور صنعت کے وزیر ڈاکٹر دلیپ جیسوال رکن اسمبلی جناب گوپال کمار اگروال نے بھی خطاب کیا۔ مقامی عوامی نمائندوں اور رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ کو پھولوں کا گلدستہ پیش کر کے خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری،آبی وسائل کے وزیروجے کمار چودھری، اقلیتی فلاح کے وزیر اور کشن گنج ضلع کے انچارج وزیر محمد زماں خان، سڑک تعمیر و صنعت کے وزیر ڈاکٹر دلیپ جیسوال ،رکن اسمبلی گوپال کمار اگروال، سابق ارکان اسمبلی، سابق ارکان قانون ساز کونسل سمیت دیگر لوگ موجود تھے۔


شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

’’میڈل لائو، نوکری پائو‘‘ اسکیم سے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور روزگار کے مواقع
بہار

’’میڈل لائو، نوکری پائو‘‘ اسکیم سے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور روزگار کے مواقع

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•7 ویوز
اقلیتی نوجوانوںکیلئے ریاستی کوچنگ اسکیم کا دائرہ وسیع ، دو برسوں میں 1,043 امیدوار کامیاب
بہار

اقلیتی نوجوانوںکیلئے ریاستی کوچنگ اسکیم کا دائرہ وسیع ، دو برسوں میں 1,043 امیدوار کامیاب

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•7 ویوز
گورکھپور-سلی گوڑی ایکسپریس وے پر منظوری کا انتظار، بہار کے آٹھ اضلاع میں زمین حصولیابی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ
بہار

گورکھپور-سلی گوڑی ایکسپریس وے پر منظوری کا انتظار، بہار کے آٹھ اضلاع میں زمین حصولیابی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•6 ویوز