زکوٰۃ سماج کے معاشی ، سماجی تحفظ کی گارنٹی ہے: عامر سبحانی
Awaz E Bihar••0 ویوز•5 منٹ پڑھیں
زکوٰۃ کے نظام کو اجتماعی طورپر تحریک چلاکر نافذ کیا جائے: رضوان احمد اصلاحی
پٹنہ: زکوٰۃ سنٹر انڈیا کےپٹنہ چیپٹر کا آج اے این سنہا انسٹی چیوٹ میں زکوۃ کانفرنس منعقد کیا گیا، جسکا آغاز جامع مسجد پٹنہ جنکشن کے امام و خطیب مولانا اسعد قاسمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد دین اسلامی کی ایک بنیادی عبادت اور پانچ ارکان میں اہم رکن زکوٰۃ پر رضوان احمد اصلاحی امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند بہار نے اپنے خطاب میں کہا کہ جس طرح سے مساجد میں اور امام اپنے خطاب میں نماز ، حج، روزہ پر خطاب کرتے ہیں اور اسلام کی روح سے اس کی اہمیت امت مسلمہ تک پہنچاتے ہیں، اسی طرح اب زکوۃ کے نظام کو نافذ کرنے کے لیے بھی اجتماعی طور پر تحریک چلا نے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کے شروع میں ہی لکھا ہوا ہے کہ تم اس وقت تک مکمل ایمان والے نہیں بن سکتے جب تک کہ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔ انسان اپنا محبوب مال خرچ کئے بغیر نیک بن ہی نہیں سکتا ہے، یعنی جس کے دل میں یاتو اللہ کی محبت ہوگی یا مال کی محبت- مولانا رضوان احمد اصلاحی نے کہا کہ زکوۃ نہ دینے والا مشرک ہے۔ زکوۃ فرض صدقہ ہے۔ لیکن اس جگہ صدقہ کو فرض قرار دیا گیا ہے جسے زکوۃ کہتے ہیں ۔صدقات کو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے یے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زکوۃ کے نظام کو قائم کرنے کے لیے اجتماعی طور پر تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی ایسی سوچ بن گئی ہے کہ وہ زکوۃ تو دیتے ہیں لیکن ان کے لیے زکوۃ کا فرض ادا نہیں ہوتا ہے۔ زکوۃ ضرورت مندوں تک پہنچانے کے لیے بیداری لانے کی ضرورت ہے۔ جس کا میں زکوۃ سنٹر انڈیا کی کاوشوں اور محنت کی ستائش کرتے ہیں جو کم وسائل کے باوجود بھی تقریباً ڈھائی سال کے میں تقریباً 54 لاکھ روپئے ضرورت مندوں تک پہنچایا- یہ انتہائی احسن قدم ہے اور اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں پر مستفیض تک پہنچایا۔ وہیں مہمان خصوصی کے طور پر سابق چیف سکریٹری عامر سبحانی نے کہا کہ زکوٰۃکی اسلام میں اجتماعیت کی بڑی اہمیت ہے۔زکوٰۃ میں بھی اجتماعیت ہونی چاہئے۔ اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ زکوٰۃ سنٹر کے لوگ قابل تعریف ہیں۔ کسی بھی سماج میں امیر اور غریب برابر نہیں ہوسکتے لیکن تھوڑا سا برابری کا حق دینے سے سماج کا ایک طبقہ اوپر اٹھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زکوۃ سماج کے معاشی، سماجی تحفظ کی گارنٹی ہے۔ یوروپی ممالک میں اسٹریلیا، کناڈا، امریکہ میں بھی طلبہ کی الگ نظام قائم ہے جو معاشی کمزوری سے پڑھائی نہیں کرپاتے، مذکورہ اجتماعی نظام جو بہت ساری اہمیت کا حامل ہے، جو آپ انفرادی طور پر نہیں کرسکتے ، اس میں شفافیت نظر آنی چاہئے۔ ایسے غریبوں کی مدد ضروری ہے جو اس کے مستحق ہیں۔ انہوں نے زکوۃ سنٹر سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔۔زکوٰۃکانفرنس کی نظامت قمر وارثی، خازن، زکوٰۃ سینٹر پٹنہ کررہے تھے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پورے بہار میں زکوۃ کے دو سنٹر کام کررہے ہیںجہاں غریبوں کی کفالت کی جارہی ہے۔اس کے بعد ایس ایس قادری چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، صدر زکوۃ سنٹر انڈیا پٹنہ چیپٹر نے اپنے خطاب میں کہا کہ زکوۃ سنٹر پٹنہ اپنے اغراض و مقاصد میں گامزن ہے اور زکوۃ کے نظام کو قائم کرنے میں ایک انقلابی تحریک کی طرح کام کررہا ہے۔ صاحب حیثیت تک رسائی اور ان کی زکوۃ کی رقم کو ضرورت مندوں تک پہنچانا ہمارا خاص مقصد ہے۔ وہیں دہلی سے آئے زکوۃ سنٹر انڈیا کے ٹرسٹی اور اسلامی اکیڈمی دلّی کے ڈائریکٹرڈاکٹر رضوان احمدرفیقی نے اپنے تاثرات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ زکوۃ ادا نہیں کرتے ہیں ان کے بارے میں قرآن کہتا ہے ان کو دردناک سزا دی جائے گی۔ ایک دن آئے گا کہ سونے اور چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی، اللہ پوچھے گا کہ جو ہم نے مال دیا وہ کہاں خرچ کیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں 11 فیملی کے پاس ملک کا 40 فیصد دولت ہے۔۔ یہ رپورٹ چونکانے والی ہے۔ اسلام نے اوّلین دور میں ہی ایسے سماج کی تشکیل کی جہاں زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں تھا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اجتماعی زکوٰۃ کا نظام ملّت میں ازالہ غربت، تعلیمی ترقی اور معاشی بہتری کو روبمال لانے میں موثر ذریع ہے۔ زکوۃ سنٹر کے سکریٹری ایڈوکیٹ محمّد نوشاد نے پاور پوائنٹ کے ذریع سال 2025 کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے اُنہوں نے بتایا کہ زکوٰۃ سینٹر کا مقصد زکوٰۃ کا اجتماعی نظم قائم کرکے معاشرے میں خوشحالی لینا ہے،بطخ آج زکوٰۃ لینے والے کل زکوٰۃ دینے والے بنیں۔ گزشتہ سال کے اخراجات کی تفصیل دیتے ہوئے موصوف نے کہا کہ چار ادوار میں ضرورت مند لوگوں کے درمیان قریب 29 لاکھ روپیے تقسیم کیے گئے، جسمیں روزگار، تعلیم اور مواساۃ کا مد شامل ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پورے ہندوستان میں زکوٰۃ سینٹر کے 34 چیپٹر کام کر رہے ہیں۔ اس کے تمام ارکان رضاکار ہونے کے ساتھ ہی ڈونرز بھی ہوتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ زکوۃ سنٹر پٹنہ اپنے ادارہ جاتی نظام کے تحت اجتماعی طور پر زکوۃ ادا کرنے کے لیے لوگوں سے درخواست کرتا ہے اور اس کی اہمیت اوراس کے فوائد کے بارے میں بھی بتایا۔ کانفرنس میں شرکت کرنے والوں میں بھاگلپور سے آئے الحاج اقدم صدیقی، الحاج دائود علی، حافظ محمد غلام ربانی،محمد دانش، بہار شریف سے محفوظ عالم، بہار شریف سے غفران، فاروق، ایڈوکیٹ سرفراز، ماسٹر منور، پرویز عالم، کے علاوہ دیگر اضلاع سے اور مقامی سیکڑوں لوگوں کی شرکت ہوئی۔